SkyscraperCity Forum banner
1 - 7 of 7 Posts

·
SWEDEN/PAKISTAN
Joined
·
4,979 Posts
Discussion Starter · #1 ·
KPK Updates
https://twitter.com/KPKUpdates/status/965264896848990210

The foundation stone for KPK´s biggest project PAF Khyber Pakhtunkhwa Cadet college in Swabi will be laid on 20th Feb 2018.
Project will be spread over a thousand Canal land and will consist of:

PAF Khyber pakhtunkhwa Cadet College
technical school
300 bed hospital
PAF sports grounds Education Center

 

·
Desert Rose
Joined
·
4,127 Posts
Kpk | Swabi | sports city | Technical education village & Hospital| |Prep

خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا منصوبہ جس کا سنگ بنیاد 20 فروری کو صوابی میں رکھا جائے گا.
یہ منصوبہ ایک ہزار کنال آراضی پر مشتمل ہیں جس میں خیبر پختونخوا کا پہلا پی اے ایف کیڈٹ کالج،
*پی اے ایف سکول
* 300 بیڈ ہسپتال
* سپورٹس گراونڈز
* ٹیکنیکل ایجوکیشن سنٹر
* عورتوں کے لئے دستکاری سنٹر
* مغزور بچوں کے لئے سکول
* کمیونٹی سنٹر
اور دریا کے ساتھ ساتھ ایک بڑا پارک
جس پر 8 ارب لاگت آئے گی جس کا افتتاح بدست سپیکر صوبائی اسمبلی جناب اسدقیصر، وزیر اعلٰی پرویز خٹک صاحب، چیف ائیر مارشل ، کور کمانڈرز رکھیں گے.
#Swabi #KPK #Pakistan
 

·
Moderator
Joined
·
17,083 Posts
Tabeb bhai right now we don't have any info about this project, we don't even know the proper name of this project.

Jab proper info mill jaegy to mai khud yeh thread khol duga :)
 
  • Like
Reactions: tabeb noor

·
Desert Rose
Joined
·
4,127 Posts
Cool
@pakforever Its name is welfare city
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1008906485931826&id=220395138116302



وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی صوابی میں ایم ایم عالم کے نام سے منسوب عالم آباد ویلفیئر سٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت-
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اس موقع پر کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبے میں سٹیٹس کو کی قوتوں کو کامیابی سے شکست دی۔ ہم نے تبدیلی کیلئے سخت اقدامات کئے صوبے میں ایسی طرز حکمرانی کی بنیاد رکھی جس میں سستے انصاف کی فراہمی ، تعلیم و صحت سمیت سماجی خدمات کے شعبوں میں پائیدار نظام کی بنیاد رکھی ۔ سستے انصاف سمیت اچھی روایات کو فروغ دیا ، میرٹ پر فیصلہ سازی کی ۔قوانین کے ذریعے کرپشن کاخاتمہ کیا ۔مفاد پرستی ، کرپشن ، جھوٹ ، منافقت اور دھوکہ دہی کی سیاست کو دفن کیا۔قوم کو یکجا کیااور سٹیٹس کو کے خلاف قوم میں شعور پیدا کیا۔ترقیاتی عمل کو شفاف بنایا ، کمیشن مافیا کو نکیل ڈالا۔پورے صوبے میں یکساں ترقیاتی پالیسی اپنائی ، حقدار کو حق دیااور ظلم وجبر کے خاتمے کیلئے دور رس نتائج کے اقدامات کئے ۔تعلیم کو اپنی ترجیحات کا محور بنایا۔ صحت کی سہولیات غریب کیلئے کھول دیں۔ وہ صوابی میں ایم ایم عالم شہید کے نام سے عالم آبادویلفیئر سٹی کا سنگ بنیا د رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔تقریب میں معززین علاقہ کے علاوہ پاک فضائیہ کے حاضر سروس وریٹائرڈ افسران اور ایم ایم عالم شہید کے اہل خاندان نے بھی کثیر تعداد شرکت کی۔ اس موقع پر ائیر چیف مارشل سہیل امان، سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر ، راشد میموریل ویلفیئر ٹرسٹ کے صدر ریٹائرڈ ایئر مارشل شبیر احمد خان نے بھی خطاب کیا اور صوبے میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے اور کرپشن کے خاتمے جیسے انقلابی اقدامات سمیت صوبائی حکومت کی اصلاحات کی تعریف کی ۔وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں ایئر چیف مارشل سہیل امان کی عالم آباد پراجیکٹ میں ذاتی دلچسپی لینے، سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر اور راشد میموریل ویلفیئر ٹرسٹ کی خدمات کو سراہااور یقین ظاہر کیا کہ یہ پراجیکٹ علاقے کی پسماندگی دور کرنے ، عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کیلئے سنگ میل ثابت ہو گا۔ اس منصوبے کے تحت ایک ہی جگہ پر ٹیکنیکل کالج، ہسپتال، لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ کالج، خصوصی بچوں کے لیے تعلیمی ادارہ، بچوں اور بچیوں کے لیے سکول اور کھیلوں کی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ ان سارے منصوبوں کے ذریعے نہ صرف نوجوانوں کو تعلیم و ہنر کے زیور سے آراستہ کیا جائے گا بلکہ علاقے کے مکینوں کے لئے یہ باعزت روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بھی بنے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ نبی بائی پاس روڈ کی تعمیر کے ذریعے اس عظیم فلاحی منصوبے کوموٹر وے انٹر چینج کے ساتھ ملا دیا جائے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہمارے ملک کو دشمنوں سے زیادہ سٹیٹس کو نے نقصان پہنچایا ۔حکمرانی کے پورے نظام کو مخصوص ٹولوں نے اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا۔ جس کے پاس بھی اختیارات آئے ۔ انہوں نے اداروں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ قوم کے لئے کسی نے نہ سوچا۔ اپنی نسلوں کے مستقبل کی کسی نے فکر نہ کی۔ مفاد پرستی، کرپشن، جھوٹ، منافقت، دھوکہ دہی اور سیاست گردی نے اپنی جڑیں گاڑھ لیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ تصور بدلنے لگا۔ برائی ، برائی نہ رہی۔ برائی کو برائی کہنے والے کمزور اور برائی کی آبیاری کرنے والے طاقتور بن گئے۔ہمارا المیہ یہ رہا ہے کہ حکمرانوں نے اداروں پر سیاست کی ، نظام کو مفلوج بنایا ، قوم کو قوم بنانے کی بجائے برادری اور ذات پات میں تقسیم کیا ۔عوام کے مسائل اور مشکلات بڑھتے گئے ، بیروزگاری بڑھتی گئی ۔ نوجوان کا مستقبل تاریک ہو تا گیا۔ایک مخصوص ٹولے نے پوری قوم کو یر غمال بنایا۔حکمرانی کا پورا نظام مخصوص ٹولے کی مفادات کا نگران بنا رہا۔ غریب پستا رہا اور حق کیلئے ترستا رہا۔یہی وہ محرومی تھی جس سے تنگ آکر عوام نے غریب دشمن نظام کے خلاف بغاوت کی اور تبدیلی کیلئے تحریک انصاف کو ووٹ دیا۔ہم نے اقتدار میں آکر اداروں سے سیاست کا خاتمہ کیا۔اداروں کو بااختیار بنایا۔بڑے پیمانے پر قانون سازی کی، جس کا مقصد کرپشن کا خاتمہ، غریب کو اُس کا حق دینا ، میرٹ اور انصاف کی بالادستی کو یقینی بنانے کیلئے قوانین سمیت رہنما اُصول بنائے،تاکہ تبدیلی کو اس کی روح کے مطابق عوام محسوس کرسکیں۔ہماری اصلاحات دیکھ کر ہمارے سیاسی حریف بھی اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ہماری اصلاحات نے نیا اسلوب حکمرانی متعارف کرایا۔میرٹ اور انصاف کے حوالے سے فرق نظر آرہا ہے۔فرق ڈیلیور ی میں بھی آرہا ہے اور عوام کی مشکلات میں کمی کرکے بھی نظر آرہا ہے۔آج ہم جس آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، ساڑھے چار سال پہلے اس کا تصور بھی نا ممکن تھا۔ اس وقت دہشتگردی پورے عروج پر تھی اور اب ہر طرف امن ہے۔ یہی فرق ہے ہمارے کل اور آج میں۔صوبے میں دہشگردی کا راج تھا۔ عوام نے بڑی مصیبتیں اٹھائیں، تکالیف برداشت کیں ۔ اس خطے کے غیور عوام اور سیکیورٹی فورسز نے قربانیوں کی ایک لا زوال داستان رقم کی ۔ ہماری افواج نے عوام کی حمایت سے معاشرے سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔ امن کا قیام ممکن بنایا اور ساری دُنیا میں ہم سرخرو ہوئے جس معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج ہو، بہتر طرز حکمرانی، تعلیم، صحت اور انصاف کا پائیدار نظام نہ ہو، وہاں کی روایات مضبوط نہ ہوں ،عوام کو سستا انصاف فراہم نہ ہو، تو ایسا معاشرہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ معاشرے کی کمزوریوں پر نظر رکھتے ہوئے ہم نے پورے قوم کو یکجاکرنے ، اُنہیں اپنے مقاصد کا تعین کرنے اور اس پر پیش رفت کا ایک خاکہ دیا۔تعلیم کو اپنی حکمت عملی کا محور بنایا۔صحت اور سماجی خدمات کے شعبوں کو فعال بنانے کی ٹھان لی ۔تعلیم ہماری پہلی ترجیح ٹھہری، کیونکہ تعلیم ہی قوموں کو بنانے کا پہلا زینہ ہے ۔جن اقوام نے تعلیم کا حصول اپنا مقصد حیات بنایا ۔انہی قوموں نے ترقی کی منازل طے کیں۔ تعلیم کے شعبے میں ہماری اصلاحات نظر آرہی ہیں۔اپنے صوبائی بجٹ کا ایک چوتھائی حصہ تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں والدین نے ایک لاکھ60 ہزار سے زائد طلباء و طالبات کوپرا ئیوٹ تعلیمی اداروں سے سرکاری اداروں میں داخل کرایا۔57 ہزار کے قریب نئے اساتذہ شفاف طریقہ کار کے ذریعے بھرتی کئے گئے ہیں جبکہ 83 ہزار اساتذہ کو تربیت دی گئی تاکہ معیار تعلیم میں بہتری لائی جا سکے۔صوبے میں موجود درسی کتب کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کیلئے نظر ثانی کی جارہی ہے ۔صوبہ بھر میں سکولوں کی سٹینڈرڈائزیشن کے پروگرام کے تحت سینکڑوں سکولوں کی تعمیر و اپ گریڈیشن کی جاچکی ہے۔اب تک صوبے کے کل 28000 پرائمری سکولوں میں سے تقریباً20 ہزار سکولوں کو سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ باقی سکولوں میں تیز رفتاری سے سہولیات کی فراہمی کا عمل جاری ہے ۔صرف پرائمری سکولوں پر 35 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی گئی ۔ اساتذہ کی حاضری یقینی بنانے کیلئے انڈپینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کیلئے یونیفارم میڈیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا 2014 سے پہلی کلاس میں انگلش میڈیم کا اجراء کیا گیا۔ وہ بچے اب چوتھی کلاس میں ہیں۔صوبے میں پرائمری کی سطح پر چھ کلاسوں کیلئے دو کمرے اور دو اُستاد تھے ۔ صوبائی حکومت نے چھ کلاسوں کیلئے چھ کمرے اور چھ اُستاد یقینی بنائے۔ پرایؤیٹ تعلیمی اداروں کی ریگولیشن کے لئے ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ پاس کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے صوبے میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے فروغ اور معیار کو بہتر کرنے کی غرض سے مختص بجٹ میں سو فیصد اضافہ کیا ہے۔صوبہ بھر میں ضلع کی سطح پر یونیورسٹی کیمپس اور کالج کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔صوبے میں تین نئی یونیورسٹیاں قائم کیں۔90 کے قریب کالجز پر کام جاری ہے جن میں سے 43 مکمل ہو چکے ہیں ۔باقی ماندہ بھی تکمیل کے حتمی مراحل میں ہیں۔( 199)ایم فل اور( 120)پی ایچ ڈی سکالرز کو فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت مالی امداد دی گئی۔نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں نئی پالیسی کے تحت پہلی بار ہوم اکنامکس کالجز کا قیام عمل میں لایا گیا جبکہ اس سے پہلے صوبہ بھر میں کوئی بھی ہوم اکنامکس کالج موجود نہیں تھا۔نوشہرہ میں پاکستان کی پہلی ٹیکنکل یونیورسٹی بنائی گئی ہے ۔مردان میں خواتین کیلئے پہلی بار کیڈٹ کالج تعمیر کیا جارہا ہے ۔ہری پورمیں ملائیشیا کی حکومت کے تعاون سے اپلائیڈ سائنسز یونیورسٹی زیر تعمیر ہے۔صوابی میں خواتین یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔صوبہ کے 4 اضلاع میں پبلک لائیبریریز کا قیام عمل میں لایا گیا جبکہ مزید 4اضلاع میں پبلک لائیبریریز کی تعمیر کا کام جاری ہے۔صوبہ کے 8کالجز میں ڈیجیٹل لیبارٹیریز قائم کی گئیں جبکہ 3مزید ڈیجیٹل لیبارٹیریز کا قیام عمل میں جلد لایا جائے گا۔ صوبے کے مختلف سرکاری کالجز میں بی ایس (4سالہ ڈگری پروگرام) کا آغاز کیا گیا ہے۔ صرف ضلع صوابی میں مختصر وقت میں ایک میڈیکل کالج، دو ٹیکنیکل کالج، خواتین کے لیے یونیورسٹی ، یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، اور ایک تربیتی کالج برائے کنسٹرکشن مشینری کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ کئی ایک چھوٹے پراجیکٹس بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ سوات ایکسپریس وے پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ عالم آباد کے نام سے صوابی میں پاک فضائیہ کے تعاون سے ایک ہزار کنال اراضی پر مشتمل فلاحی بستی تعمیر ہو گی جس میں لڑکے، لڑکیوں کیلئے پرائمری سکول سے لیکر ڈگری کالج تک تعمیر کئے جائیں گے اس کے علاوہ یتیم اور بے سہارا بچوں کیلئے یتیم خانہ،ہسپتال، ٹیکنکل کالج ،سپورٹس سٹیڈیم، بوٹینکل گارڈن، کمیونٹی ہال، ری کریشن سنٹر اور سٹاف کیلئے رہائشی بستی بھی شامل ہیں
 

·
Desert Rose
Joined
·
4,127 Posts
@Pakforever Here is more detail about project

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2009906439277880&id=1615045075430687

Ground breaking ceremony of PAF's Alamabad Welfare Project held at Swabi



In a landmark event, PAF in collaboration with Rashidabad Memorial Welfare Organization (RMWO) launched a welfare project by the name of Alamabad near Swabi, on Tuesday.

The mega project has been initiated for the welfare of the people of KPK in general and for the local populace of Swabi in particular.

Pervez Khattak, Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa along with Air Chief Marshal Sohail Aman, Chief of the Air Staff, Pakistan Air Force unveiled the plaque of Alamabad to mark the earth breaking of this magnificent project.

The project is in line with the vision of PAF and RMWO, to set up model villages throughout the country by integrating all essential facilities in a well-knit mosaic so as to ensure a positive beneficial outflow to the needy rural folk-all under one roof.

One such successful project, by the name of Rashidabad located near Hyderabad, has already created an everlasting impact on the people of Sindh and is serving the local populace with dignity.

Located near Swabi Interchange, Alamabad has been named after the legendary fighter pilot of PAF, Air Commodore M M Alam (late).

The project will comprise educational, vocational and healthcare centres in close proximity with an aim of alleviating poverty and eliminating illiteracy from the adjacent rural areas of KPK.

PAF and RMWO have also teamed up to launch a similar project at Quetta with the name of Yunusabad.

Addressing at the occasion, the Air Chief said, “Besides providing an impregnable aerial defence of the country, PAF has always shouldered the responsibility of nation building.

In this regard it has initiated welfare projects for the progress of the country which include quality educational institutions and state of the art vocational training centers. Rashidabad, a project by retired PAF officers, is a miracle indeed and a living proof of the fact that lighting such candles would soon illuminate the whole country”.

Addressing the audience, the Chief Minister KPK acknowledged the sincere efforts and personal interest of the Air Chief in this project.

He said, “I hope this project would usher in a new era of prosperity and progress in this area. It would not only equip the youth of this area with technical expertise but also open new vistas of social development and educational betterment”.

He also lauded the selfless contribution of the people of this area for donating one thousand Kanal of land for the project.
 
1 - 7 of 7 Posts
This is an older thread, you may not receive a response, and could be reviving an old thread. Please consider creating a new thread.
Top